آرڈر کریں Order — Store





خانیوال کے علاقے و مقامی رہنمائی Local guide
تحصیلیں / علاقے: خانیوال · کبیروالا · میاں چنوں · جہانیاں
خانیوال ضلع چار تحصیلوں — خانیوال، کبیروالا، میاں چنوں اور جہانیاں — پر مشتمل ہے اور لوئر باری دوآب نہری نظام سے سیراب ہوتا ہے۔ یہ پاکستان کے پرانے کپاس–گندم زون کا حصہ ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں یہاں مکئی، گنا، آم اور ڈیری فارمنگ کا رقبہ بڑھا ہے۔ بھینس اور گائے کے چھوٹے بڑے باڑے ہر گاؤں میں ہیں، اس لیے سارا سال سبز چارے کی طلب رہتی ہے۔
کوہ نور کا سدا بہار لوسرن خانیوال کی نہری میرا زمین میں بہت اچھا چلتا ہے۔ اکتوبر–نومبر کی کاشت پر پہلی کٹائی عموماً 50–60 دن میں مل جاتی ہے اور پھر گرمیوں میں 20–25 دن کے وقفے سے کٹائیاں آتی ہیں۔ جن کھیتوں میں کلر یا تھور کا مسئلہ ہو، وہاں پہلے روڈز گراس یا جنتر سے زمین سنبھالیں، پھر لوسرن ڈالیں۔ خانیوال شہر، کبیروالا، میاں چنوں اور جہانیاں — چاروں تحصیلوں میں کیش آن ڈیلیوری دستیاب ہے۔
کسانوں کے تجربات و ویڈیوز Farmer Reviews & Guides
اصل کسانوں کے تجربے دیکھیں — کوہ نور لوسن سے زیادہ چارہ، زیادہ دودھ:
تفصیلات و کاشت Specs & Sowing
| خصوصیت | تفصیل |
|---|---|
| کاشت کا وقت | ستمبر تا نومبر (اور فروری تا مارچ) |
| بیج فی ایکڑ | 8 تا 10 کلو (فی کنال ~2 کلو) |
| کٹائیاں | سال میں 6 تا 8 بار |
| فصل کی عمر | 3 تا 4 سال (سدا بہار) |
| خالص پن | ڈوڈر فری، اعلیٰ اگاؤ، تصدیق شدہ |
| فائدہ | زیادہ پروٹین چارہ → زیادہ دودھ، صحت مند جانور |

خانیوال کا زرعی نقشہ — کون سا علاقہ لوسرن کے لیے کیسا ہے
خانیوال ضلع ملتان اور ساہیوال کے درمیان جنوبی پنجاب کے دل میں واقع ہے۔ یہاں کی زمین دریائے راوی اور چناب کے پرانے میدانی علاقے کی میرا (لوم) مٹی ہے جو زرخیز، نرم اور پانی کو ٹھیک جذب کرنے والی ہے — یہی مٹی لوسرن کی گہری جڑوں کے لیے مثالی سمجھی جاتی ہے۔ نہری پانی لوئر باری دوآب کینال اور اس کی شاخوں (مثلاً سدھنائی اور آس پاس کے راجباہوں) سے آتا ہے، اور بیشتر کسان نہری پانی کے ساتھ ٹیوب ویل بھی چلاتے ہیں۔
ضلع کی چار تحصیلیں چار مختلف طرح کی کاشت کاری رکھتی ہیں۔ خانیوال تحصیل شہر کے گرد سبزی، گندم اور ڈیری کا علاقہ ہے جہاں شہری منڈی قریب ہونے کی وجہ سے دودھ کی قیمت اچھی ملتی ہے۔ کبیروالا کپاس، گنے اور مکئی کا بڑا علاقہ ہے اور یہاں بھینسوں کے باڑے عام ہیں۔ میاں چنوں آم، کھجور اور باغات کے ساتھ ساتھ تجارتی ڈیری فارمز کے لیے جانا جاتا ہے؛ یہاں کی منڈی سے ساہیوال اور چیچہ وطنی تک کاروبار چلتا ہے۔ جہانیاں نسبتاً نیا تحصیل ہیڈکوارٹر ہے جہاں مکئی اور چارے کی کاشت بڑھ رہی ہے اور بعض علاقوں میں کلر زدہ قطعات بھی ملتے ہیں۔
چاروں تحصیلوں میں ایک بات مشترک ہے: جانوروں کی تعداد زیادہ ہے اور سبز چارہ موسمی ہے۔ برسیم مارچ کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور جوار/مکئی کا چارہ ستمبر کے بعد۔ اپریل–جون اور اکتوبر–نومبر کے یہ دو خلا ہی وہ وقت ہیں جب خانیوال کے کسان توڑی اور ونڈے پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ سدا بہار لوسرن ان دونوں خلاؤں کو بھرتا ہے — یہی وجہ ہے کہ یہاں لوسرن کا رقبہ ہر سال بڑھ رہا ہے۔
تحصیل وار رہنمائی — خانیوال، کبیروالا، میاں چنوں، جہانیاں
| تحصیل | زمین و پانی | لوسرن کے لیے مشورہ |
|---|---|---|
| خانیوال | نہری میرا زمین، ٹیوب ویل عام | اکتوبر کے وسط میں کاشت؛ شہری ڈیری کے لیے 5 کلو فی آدھ ایکڑ سے شروع کریں |
| کبیروالا | کپاس کے بعد خالی ہونے والے کھیت، بھاری میرا | کپاس کی چنائی کے بعد نومبر میں کاشت؛ پہلی آبپاشی ہلکی رکھیں |
| میاں چنوں | باغات کے درمیانی قطعات، زرخیز زمین | باغ کی قطاروں کے بیچ یا الگ قطعے میں؛ کٹائی 20–25 دن پر |
| جہانیاں | کہیں کہیں کلر/تھور، ٹیوب ویل پانی | کلر والے کھیت میں پہلے جنتر یا روڈز گراس، پھر لوسرن؛ جپسم کا استعمال |
یہ عمومی رہنمائی ہے — ہر کھیت کا پانی اور مٹی الگ ہوتی ہے۔ واٹس ایپ پر اپنے کھیت کی تصویر اور پانی کی کیفیت بھیجیں تو ہماری ٹیم بیج کی مقدار اور کاشت کا طریقہ آپ کے علاقے کے مطابق بتاتی ہے۔
خانیوال کے لیے لوسرن کا سالانہ کیلنڈر
| مہینہ | کام |
|---|---|
| ستمبر | کھیت کی تیاری: 2–3 ہل، سہاگہ، لیزر لیول ہو تو بہتر؛ گوبر کھاد ڈالیں |
| اکتوبر – نومبر | کاشت کا بہترین وقت — 8–10 کلو بیج فی ایکڑ، آدھا انچ گہرائی، ڈی اے پی/ایم اے پی بنیادی کھاد |
| دسمبر – جنوری | پہلی کٹائی (کاشت کے 50–60 دن بعد)؛ کہرے میں آبپاشی ہلکی |
| فروری – مارچ | کٹائیاں 25–30 دن پر؛ دوسری کاشت کا موقع (مارچ کے وسط تک) |
| اپریل – جون | گرمی میں 7–10 دن پر پانی؛ کٹائی 20–25 دن پر — یہی وہ وقت ہے جب برسیم ختم اور لوسرن چل رہا ہوتا ہے |
| جولائی – اگست | مون سون میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں؛ جڑی بوٹیوں پر نظر |
| ستمبر (اگلا سال) | فصل دوسرے سال میں داخل — 3 سے 4 سال تک مسلسل چارہ |
ایک ایکڑ لوسرن خانیوال کے ڈیری کسان کے لیے کیا کرتا ہے
خانیوال کے ایک عام باڑے میں 8 سے 15 دودھ دینے والی بھینسیں اور گائیں ہوتی ہیں۔ ان کے لیے روزانہ تازہ سبز چارہ درکار ہے، اور جب چارہ کم ہو تو ونڈا اور توڑی کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ کوہ نور لوسرن میں 22 سے 24 فیصد خام پروٹین ہوتی ہے — یعنی ونڈے کا ایک حصہ لوسرن سے بدلا جا سکتا ہے اور دودھ کی مقدار و معیار برقرار رہتا ہے۔
ایک ایکڑ سدا بہار لوسرن سال میں 6 سے 8 کٹائیاں دیتا ہے اور ایک بار بیج ڈال کر 3 سے 4 سال تک فصل چلتی ہے۔ یعنی بیج کا خرچ ایک بار، چارہ چار سال۔ برسیم یا جوار کے مقابلے میں یہ فرق خانیوال کے کسانوں کے لیے فیصلہ کن ہے، کیونکہ ہر سال بیج، بجائی اور کھیت کی تیاری کا خرچ بچتا ہے۔ تازہ ریٹ اور فی ایکڑ تخمینہ واٹس ایپ پر لیں — ہم قیمت ویب سائٹ پر نہیں لکھتے کیونکہ یہ مارکیٹ کے ساتھ بدلتی ہے۔
لوسرن کو خشک کر کے ہے (Hay) بھی بنایا جاتا ہے — خانیوال کی خشک گرمی اس کے لیے موزوں ہے۔ مئی–جون کی کٹائی کو 2–3 دن دھوپ میں پلٹ کر گٹھڑیاں بنا لیں تو مون سون اور سردیوں کے خلا میں کام آتی ہے۔
جنوبی پنجاب میں ڈوڈر (اکاس بیل) — خانیوال کے کسان کیوں بیج کی خالصیت پر زور دیتے ہیں
ملتان، خانیوال اور وہاڑی کے علاقے میں لوسرن کی سب سے بڑی دشمن اکاس بیل (ڈوڈر) ہے — ایک زرد بیل جو لوسرن کے پودے سے لپٹ کر اس کا رس چوس لیتی ہے اور چند ہفتوں میں پورا قطعہ تباہ کر دیتی ہے۔ یہ بیل کھیت میں نہیں آتی، بیج کے ساتھ آتی ہے: غیر معیاری اور کھلے بیج میں ڈوڈر کے باریک بیج ملے ہوتے ہیں جو لوسرن کے بیج سے الگ نظر نہیں آتے۔
کوہ نور کا ہر لاٹ سورٹیکس مشین سے صاف اور لیبارٹری میں ٹیسٹ ہوتا ہے — صفر فیصد ڈوڈر ہماری تحریری ضمانت ہے۔ خانیوال کے کسانوں کے لیے یہی سب سے بڑا فرق ہے: ایک بار ڈوڈر زدہ بیج سے کھیت خراب ہو جائے تو اگلے کئی سال اس قطعے میں لوسرن نہیں چلتا۔ مہر بند پیکنگ اور لاٹ نمبر کے ساتھ بیج لیں، کھلا بیج نہ لیں۔

خانیوال کے لیے مکمل چارہ پروگرام — لوسرن کے ساتھ کیا کاشت کریں
لوسرن اکیلا پورا راشن نہیں ہے۔ خانیوال کے باڑے کے لیے ہم یہ ترتیب تجویز کرتے ہیں:
| فصل | موسم | کردار |
|---|---|---|
| کوہ نور لوسرن | سدا بہار (3–4 سال) | پروٹین کی بنیاد، ونڈے کی بچت |
| صفاء برسیم | اکتوبر – اپریل | سردیوں کا بھاری سبز چارہ |
| رائی گراس | اکتوبر – مارچ | سردیوں میں پروٹین، دودھ میں اضافہ |
| پروٹین گراس | گرمیوں میں 8+ کٹائیاں | مکمل راشن بلینڈ، 20–25 دن پر کٹائی |
| روڈز گراس | 3–5 سال | کلر/کمزور زمین، گھاس و ہے |
| جنتر | 40–45 دن | بکری/بھیڑ کا چارہ اور سبز کھاد — کلر زمین کی اصلاح |
| بیمثال (15 سالہ) | ایک کاشت، 12–15 سال | کھیت کے کنارے اور بڑے جانوروں کا بلک چارہ |
ایک ہی واٹس ایپ پر پورے پروگرام کا بیج منگوائیں — ایک ڈیلیوری، ایک رابطہ۔ کبیروالا اور میاں چنوں کے بڑے فارم ڈیلر ریٹ پر تھوک آرڈر بھی دے سکتے ہیں۔
خانیوال میں آرڈر اور ڈیلیوری کیسے ہوتی ہے
واٹس ایپ +92 326 8880000 پر اپنا نام، گاؤں/تحصیل اور رقبہ لکھ کر بھیجیں۔ ہماری ٹیم اسی دن تازہ ریٹ، بیج کی مقدار اور ڈیلیوری کا وقت بتاتی ہے۔ ادائیگی ڈیلیوری پر (کیش آن ڈیلیوری) ہوتی ہے — پہلے پیسے بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ خانیوال شہر، کبیروالا، میاں چنوں، جہانیاں اور ان کے آس پاس کے دیہات میں پارسل عام طور پر 2 سے 4 کام کے دنوں میں پہنچ جاتا ہے۔
اگر آپ خانیوال میں بیج کی دکان یا زرعی مرکز چلاتے ہیں تو کوہ نور ڈیلرشپ کے لیے رابطہ کریں — ہمارے 1000 سے زائد رجسٹرڈ ڈیلر ہیں اور خانیوال کی ہر تحصیل میں ہمیں مستقل ڈیلر درکار ہیں۔
تصاویر Photos




کیوں کوہ نور؟ Trust



مکمل فوڈر پروگرام Complete Fodder Program
سارا سال سبز چارہ، زیادہ دودھ، زیادہ منافع — یہ چارے بھی کاشت کریں:
عام سوالات FAQ
خانیوال میں ریٹ کیا ہے؟
ریٹ مارکیٹ اور کاسٹنگ کے مطابق روزانہ بدلتا ہے — اسی لیے آج کا تازہ ترین ریٹ واٹس ایپ +92 326 8880000 یا کال +92 331 0220000 پر لیں۔ کیش آن ڈیلیوری۔
ڈیلیوری کیسے ہوگی؟
خانیوال سمیت پورے پنجاب میں کیش آن ڈیلیوری — گھر یا کھیت پر۔
کب کاشت کریں؟
ستمبر تا نومبر (اور فروری تا مارچ)۔ فی ایکڑ 8-10 کلو۔
کیا یہ ڈوڈر فری ہے؟
جی، کوہ نور بیج خالص اور ڈوڈر فری ہے — تصدیق شدہ۔
خانیوال میں لوسرن کی کاشت کا بہترین وقت کون سا ہے؟
خانیوال میں اکتوبر کے وسط سے نومبر کے آخر تک بہترین وقت ہے؛ فروری–مارچ میں بھی کاشت ہو سکتی ہے مگر پہلی گرمی سے پہلے فصل کا جم جانا ضروری ہے۔
کبیروالا یا میاں چنوں میں ڈیلیوری کتنے دن میں ہوتی ہے؟
خانیوال کی چاروں تحصیلوں میں عام طور پر 2–4 کام کے دنوں میں کیش آن ڈیلیوری ہو جاتی ہے۔ واٹس ایپ پر پتہ بھیجیں، تصدیق کے بعد روانگی ہوتی ہے۔
آج ہی خانیوال میں آرڈر کریں
کاشت کا وقت مختصر ہے — ابھی رابطہ کریں



